ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / مختلف دھڑوں کا انضمام، کیا تحریک طالبان پاکستان دوبارہ مضبوط ہو رہی ہے؟

مختلف دھڑوں کا انضمام، کیا تحریک طالبان پاکستان دوبارہ مضبوط ہو رہی ہے؟

Thu, 20 Aug 2020 18:21:57    S.O. News Service

اسلام آباد /20اگست (آئی این ایس انڈیا )تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے علیحدہ ہونے والے دو مؤثر دھڑے دوبارہ تحریک میں ضم ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق دونوں دھڑوں کے اہم کمانڈروں نے تحریک کے سربراہ مفتی نور ولی محسود کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

خیال رہے کہ کالعدم شدت پسند تنظیم کے سابق سربراہ بیت اللہ محسود کے 2009 میں امریکی ڈرون حملے میں مارے جانے کے بعد ضلع مہمند سے تعلق رکھنے والے جنگجو کمانڈر عبدالولی مہمند کی قیادت میں ایک گروہ نے علیحدہ کارروائیاں شروع کی تھیں۔

بعد ازاں اس گروہ نے 'جماعت الاحرار' کا نام اختیار کر لیا تھا۔ جب کہ نومبر 2013 میں حکیم اللہ محسود کے امریکی ڈرون حملے میں مارے جانے کے بعد جب ملا فضل اللہ تنظیم کے سربراہ بنے، تو محسود جنگجوؤں نے شہر یار محسود کی قیادت میں ٹی ٹی پی حکیم اللہ محسود کے نام سے ایک علیحدہ دھڑا بنایا تھا۔

گزشتہ دس دن کے دوران ان دونوں دھڑوں کے سربراہوں نے اپنی اپنی عسکری تنظیمیں تحریک طالبان پاکستان میں ضم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جب کہ جنگجوؤں نے مفتی نور ولی محسود کی قیادت میں مشترکہ کارروائیاں شروع کرنے کا بھی اعلان کیا۔

حکیم اللہ محسود کے بھائی اعجاز محسود اور چچا رسول محمد محسود نے پہلے ہی ایک معاہدے کے تحت اپنے آپ کو حکومت کے حوالے کر دیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق دونوں اپنے وفادار جنگجوؤں کے ہمراہ جنوبی وزیرستان میں اپنے آبائی علاقے میں واپس جا چکے ہیں۔

خیال رہے کہ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے تین دھڑوں کے یکجا ہونے پر حکومت یا سیکیورٹی اداروں کا ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔ البتہ ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات کے لیے سرحد پار روپوش ٹی ٹی پی سمیت دیگر تنظیموں کو موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔

منگل کو لاہور سے گرفتار کیے گئے مبینہ دہشت گردوں کا تعلق بھی 'جماعت الاحرار' سے بتایا گیا تھا۔ گرفتار افراد میں ایک 17 سالہ مبینہ خودکش بمبار بھی شامل تھا، جس نے مقامی میڈیا کی رپوٹس کے مطابق سیکیورٹی فورسز کو دیے گئے بیان میں کہا ہے کہ وہ عمر خراسانی کے حکم پر لاہور پولیس لائنز پر حملہ کرنے والا تھا۔ عمر خراسانی ٹی ٹی پی میں ضم ہونے والی تنظیم 'جماعت الاحرار' کے سربراہ تھے۔


Share: